ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چیف جسٹس کے خلاف سازش کی تحقیقات کا حکم ریٹائرڈجسٹس پٹنایک کریں گے جانچ۔سی بی آئی اور پولیس کو تفتیش میں تعاون کرنے عدالت کی ہدایت

چیف جسٹس کے خلاف سازش کی تحقیقات کا حکم ریٹائرڈجسٹس پٹنایک کریں گے جانچ۔سی بی آئی اور پولیس کو تفتیش میں تعاون کرنے عدالت کی ہدایت

Fri, 26 Apr 2019 10:54:24    S.O. News Service

نئی دہلی، 26؍اپریل (ایس او نیوز؍یو این آئی) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی پر جنسی استحصال کے معاملے کو سازش قرار دینے والے وکیل اتسو بینس کے دعوے کی جانچ کے لئے جمعرات کوعدالت نے ریٹائرڈ جج جسٹس اے کے پٹنائک کی صدارت میں ایک کمیٹی قائم کردی۔ جسٹس ارون مشرا کی صدارت والی بنچ نے کہاکہ اتسو بینس کے الزامات کی جانچ کرنے کے لئے جسٹس (ریٹائرڈ) اے کے پٹنائک کی تقرری کی گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے مسٹر بینس کو عدالت کی کارروائی کو متاثر کرنے میں فکسر اور کارپوریٹ دنیا سے وابستہ ایک شخص کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے سلسلے میں کمیٹی کے سامنے تمام دستاویزات اور شواہد پیش کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے مرکزی تفتیشی بیورو کے ڈائریکٹر‘دہلی پولیس اور انٹلی جنس محکمہ کے سربراہ کو بھی معاملے کی انکوائری میں تعاون کرنے کے لئے کہا ہے۔وکیل اتسو سنگھ بینس نے الزام لگایا ہے کہ چیف جسٹس کے خلا ف الزام لگانے میں مدد کے لئے انہیں موٹی رقم کی پیش کش کی گئی تھی۔ جسٹس ارون مشرا نے بینس، سالسٹر جنرل تشار مہتا اور اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال کے دلائل سننے کے بعد کہاکہ ہم اس معاملے پر آ ج سہ پہر دو بجے فیصلہ سنائیں گے۔ جسٹس مشرا نے سماعت کے دوران کہا کہ یہ معاملہ نہایت سنگین ہے۔ اگر اس طرح کے الزامات لگتے ہیں تو یہ ادارہ بچ نہیں سکے گا۔معلوم ہو کہ عدالت کی ایک جونئیر معاون نے گذشتہ ہفتہ جسٹس گوگوئی پر پچھلے سال اکتوبر میں اس کا جنسی استحصال کرنے کا الزام لگایا تھا اور اس سلسلے میں اس نے 22ججوں کو تحریری شکایت بھیجی تھی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کے خلاف سازش کے معاملے میں سپریم کورٹ نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ریٹائردجسٹس اے کے پٹنائک اس معاملے کی جانچ کریں گے۔سپریم کورٹ نے تحقیقات میں سی بی آئی، آئی بی اور دہلی پولیس کو مددکرنے کی ہدایت دی ہے۔سپریم کورٹ کے وکیل اتسو بینس نے دعویٰ کیا تھا کہ سی جے آئی کے خلاف سازش رچی جارہی ہے۔ریٹائر جسٹس اے کے پٹنائک بینس کے دعووں کی تحقیقات کریں گے۔بینس نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے دعویٰ کیا تھا کہ سی جے آئی کو جنسی استحصال کے معاملے میں پھنسا کر ان کے خلاف سازش رچی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کے خلاف سازش کے دعوؤں پر کہا کہ جس طریقے سے اس ادارے سے پیش آیا جا رہا ہے، ہم اس سے ناراض ہیں۔اگر ایسا ہوگا تو ہم کام نہیں کر پائیں گے۔کورٹ نے چیف جسٹس کے خلاف سازش سے متعلق وکیل کے دعوؤں پر کہا کہ اس ادارے کو بدنام کرنے کے لئے سوچ سمجھ کر حملہ کیا جا رہا ہے اور سوچا سمجھا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔کورٹ نے کہا کہ چار سے پانچ فیصد وکیل ایسے ہیں جو اس عظیم ادارے کو بدنام کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی کہا تھاکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کھڑے ہوں اور ملک کے امیر اور طاقتور لوگوں کو بتائیں کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ جسٹس ارون مشرا، جسٹس نرمن اور جسٹس دیپک گپتا کی بنچ اس معاملے کی سماعت کر رہی تھی۔بتا دیں کہ سپریم کورٹ نے اعلیٰ عدالت میں فکسنگ کے دعوؤں اور سی جے آئی رنجن گوگوئی پر لگے جنسی تشدد کے الزامات کو بدھ کو انتہائی حساس قرار دیا اور کہا کہ یہ عدالت کی ذمہ داری ہے کہ ادارے (عدالت) کو پاک صاف رکھا جائے تاکہ اس کی شبیہ خراب نہ ہو۔جسٹس ارون مشرا کی سربراہی والی تین ججوں کی خصوصی بنچ نے کہا کہ اعلیٰ عدالت کی بنچ پرفکسنگ کے بارے میں ایڈوکیٹ جشن سنگھ بینس کی طرف سے داخل حلف نامے میں لگائے گئے الزام اور کچھ ناموں کا انکشاف بہت سنگین پہلو والا ہے۔بنچ نے کہاکہ یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ادارے (عدالت) کو پاک و صاف رکھا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس طرح کے الزامات سے اس ادارے کی شبیہ خراب نہ ہو۔


Share: